ابنا: علامہ سید ساجد علی نقوی نے کہا ہے کہ ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت ملک بالخصوص کراچی کے امن و سکون کو تہہ و بالا کرنے کی مذموم کوشش کی جارہی ہے اور شرپسند عناصر ایسی فتنہ انگیزی اور قتل و غارت گری کے ذریعہ فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور اتحاد و وحدت کو پارہ پارہ کرنے میں مشغول ہیں۔
اب یہ امن و امان کے ضامن اداروں اور ریاست کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ ایسے شرپسند ملک دشمن عناصر کے خلاف سخت سے سخت ایکشن لے ورنہ صورت حال کسی کے کنٹرول میں نہ رہے گی۔
ترجمان نے مزید کہا کہ گذشتہ سالوں میں سانحہ عاشورہ محرم اور سانحہ چہلم سمیت مختلف واقعات میں بڑی تعداد میں معصوم اور بے گناہ انسان لقمہ اجل بن گئے ۔
اگر ان سانحات کے محرکات اور پس پردہ حقائق منظر عام پر لاکر قاتلوں کو اپنے انجام تک پہنچایا جاتا تو بعد کے سانحات پر قابو پانے میں آسانی ہوتی مگر عوام کے جان و مال کے تحفظ کے ضامن اداروں نے مجرمانہ غفلت کا ثبوت دیاجس سے قاتلوں اور دہشت گردوں کو یہ خونی کھیل کھیلنے میں آسانی ہوئی اور اب بھی ان سانحات تسلسل سے جاری ہیں اور معصوم اور بے گناہ انسانوں کابے دردی سے خون بہایا جارہا ہے۔
مرکزی ترجمان نے شرف مہدی اور کاشف علی کے لواحقین اور پسماندگان سے دلی دکھ اور ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے دہشت گردوں کو فوری گرفتار کرکے کیفر کردار تک پہنچانے کا مطالبہ کیا۔
...............
/169